Grand Mufti of Saudi Arabia Abdul Aziz Alay Shaykh

شیخ عبداللہ بن عبدالعزیز آل الشیخ کی وفات اور زندگی: ایک جائزہ

تعارف

شیخ عبداللہ بن عبدالعزیز آل الشیخ کی وفات اور زندگی: ایک جائزہ

شیخ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ آل الشیخ سعودی عرب کے موجودہ مفتی اعظم تھے، جنہوں نے تقریباً 1999 سے اس عہدے کو فائز ہو کر اسلامی دنیا میں ایک اہم دینی مقام سنبھالا ہوا تھا۔ ان کے انتقال نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری مسلم اُمّت میں ایک خلا پیدا کیا ہے۔

وفات کی تفصیلات

تاریخ وفات: شیخ عبداللّٰہ بن عبدالعزیز آل الشیخ نے 23 ستمبر 2025 کو صبح کے وقت ریاض میں وفات پائی۔

عمر: اُن کی عمر تقریباً 82 سال تھی۔
جائے وفات: ریاض، سعودی عرب

نمازِ جنازہ:

نمازِ جنازہ ریاض کے امام تُرکی بن عبداللہ مسجد میں عصر کی نماز کے بعد ہوئی۔
علاوہ ازیں، شاہ سلمان بن عبدالعزیز (بادشاہِ سعودی عرب) کی ہدایت کے مطابق غائبانہ نماز جنازہ (Salat al-Ghaib) مکہ اور مدینہ کی مسجد الحرام و مسجد النبویٰ سمیت ملک کی دیگر مساجد میں بھی ادا کی گئی۔
عزائے رسمی: شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کے اہلِ خانہ، سعودی عوام اور اسلامی دنیا سے گہرے تعزیتیں پیش کی ہیں۔

حالاتِ زندگی

آغازِ زندگی اور تعلیم

پیدائش: 30 نومبر 1943 کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی دور: بچوں میں ہی قرآن حفظ کیا۔ ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے جوانی میں بینائی کھو دی؛ بعض ذرائع کے مطابق تقریباً 17 سال کی عمر میں بینائی کی کمی شروع ہوئی۔

تعلیمِ :

وہ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی میں شريعة کا مطالعہ کرنے گئے تھے جہاں سے انہوں نے شریعہ اور عربی میں تعلیم حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کا کام کیا: ابتدائی طور پر درس و تدریس دینی اداروں میں اور پھر مختلف جامعات اور دینی انسٹی ٹیوٹس میں شریعت اور فقہ کی تعلیم دی۔

دینی اور علمی خدمات

تدریس اور مشائخ: طلبہ کو تعلیم دینا، اسلامی فقہ و شریعت کی شرح کرنا، فتاویٰ دینا اور علماء کی کونسلوں میں کام کرنا، دینی امور میں مشاورتی کردار ادا کرنا ان کی شخصیت کے اہم پہلو تھے۔

امام اور خطیب:

انہوں نے مختلف مساجد میں امام اور خطیب کے فرائض انجام دیے۔ مثلاً نامرہ مسجد، عرفات (آرامت کے موقع پر جمعۃ الوداع یا حج کے خطبے کے وقت) اور امام ترکی بن عبدالله مسجد، ریاض جیسی مشہور مساجد میں خطیب و امام رہے۔

عہدہ جات

کونسل آف سینئر اسکالرز: 1987 میں وہ “کونسل آف سینئر اسکالرز” کے ممبر بنے۔

کمیٹی پرمننٹ ریسرچ اینڈ افتا: “Permanent Committee for Scholarly Research and Ifta” کے رکن بنے، پھر بعد میں اس کمیٹی میں مکمل حصہ لیا۔
وائس گرینڈ مفتی: 1995 میں نائبِ مفتی اعظم (Deputy Grand Mufti) کا عہدہ ملا۔

مفتی اعظم کا عہدہ:

14 مئی 1999 کو، مرحوم مفتیِ اعظم عبدالعزیز بن باز کے انتقال کے بعد، شاہِ سعودی طبیعت نے عبداللّٰہ بن عبدالعزیز آل الشیخ کو یہ منصب سونپا۔ وہ تب سے وہ عہدہ سنبھالے ہوئے تھے۔

اہم کردار اور اثرات

مذہبی فتاویٰ اور رہنمائی

شیخ عبداللّٰہ نے اسلامی فقہ، عقائد اور دینی معاملات میں کئی فتاویٰ دیے جو نہ صرف سعودی معاشرے بلکہ پورے خلیج اور مسلم دنیا میں مانی جاتے تھے۔
ان میں کچھ اہم نکات یہ تھے:

اعتدال اور ریاستی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگی: ان کا رویّہ عمومی طور پر سعودی ریاست کی مصلحت اور سماجی پالیسیوں کے مطابق رہا، خاص طور پر “ویژن 2030” کے تحت ہونے والی سماجی تبدیلیوں میں۔

انتہاپسندی اور دہشت گرد تنظیموں کی مخالفت: انہوں نے داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی شدید ممانعت کی، ان کو اسلام سے دور شمار کیا۔
خطبے اور حجّت النصاب میں خدمات

عرفات میں “خطبہ عرفہ” (عرفات کا خطبہ) انہوں نے کئی برسوں تک دیا، خاص طور پر نامرہ مسجد سے۔ یہ خطبہ حجّۃ الوداع کے دوران مسلمانوں کے دلائل اور تقاضے بیان کرنے کا ایک موقع ہوتا تھا۔
دینی تحریریات: فقہی مسائل، عقائد، حلال و حرام کے موضوعات پر ان کی تحریریں موجود ہیں، جنہیں علماء اور عمومی مسلم معاشرے میں حوالہ دیا جاتا رہا۔

ریاستی اور سماجی مقام

بطورِ مفتی اعظم، وہ کونسل آف سینئر اسکالرز اور جنرل پریزیڈنسی آف اسکالرلی ریسرچ اینڈ افتا کے سربراہ تھے اور دینی فتاویٰ وغیرہ جاری کرنے کی مرکزی اتھارٹی ان کے پاس تھی۔
شاہی دربار اور ریاستی پالیسیوں کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط رہا، اور وہ ریاستی اقدامات جیسے خواتین کی ڈرائیونگ کی اجازت، مذہبی پولیس کے اختیارات کی کمی، سماجی اصلاحات وغیرہ پر دینی منطق فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

تنقیدی گوشے اور چیلنجز

ہر شخصیت کی طرح مفتی عبداللّٰہ بن عبداللّٰہ آل الشیخ کے متعلق کچھ تنقیدیاں اور سوالات بھی اٹھائے گئے، مثلاً:

آزادانہ دینی آواز کا محدود ہونا: بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے دینی فتاویٰ کافی حد تک ریاست کے مفاد کے مطابق ہوتے گئے، اور آزاد فکر یا مختلف دینی مکاتب سے تعلق رکھنے والے علما کی آواز کم ہوتا گیا۔

سماجی اصلاحات کے درمیان توازن: سعودی اصلاحات (جیسے خواتین کا ڈرائیونگ، تفریحی پروگراموں کی توسیع، مذہبی پولیس کے کردار میں تبدیلی) کے تناظر میں، کچھ حلقے ان سے توقع کرتے تھے کہ دینی قیادت زیادہ شفاف یا محتاط رہتی، خاص طور پر عام لوگوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے۔

بین الاقوامی مسلم تشہیر اور نقطہ نظر: بعض ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ وہ عالمی مسائل (مثلاً فلسطین، کشمیر، انسانی حقوق) پر زیادہ کثرت سے آواز اٹھاتے یا بین الاقوامی مسلم اُمت میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کرتے تو ان کا اثر مزید بڑھتا۔ لیکن ریاستی حدود اور داخلی امور کے دباؤ کی وجہ سے ایسے معاملات میں ان کی تقریر کبھی کبھی معتدل یا محتاط رہی۔

میراث اور تعزیتی ردِعمل

سعودی شاہی دربار کی تعزیت: بادشاہ سلمان اور ولیِ عہد محمد بن سلمان نے فوری طور پر تعزیت کا پیغام جاری کیا۔

اسلامی دنیا میں ردِعمل: عرب ممالک، دیگر اسلامی ممالک اور علما نے مفتی اعظم کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کی علمی خدمات اور مذہبی رہنمائی کی قدر کی گئی۔

مستقبل کی راہ: مفتی اعظم کی وفات کے بعد سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آئندہ مفتی کون ہوگا، اور دینی اسکالرلی قیادت میں کس طرح کا رجحان دیکھنے کو ملے گا—کیا وہ ریاستی مفاد سے زیادہ آزادانہ فتاویٰ جاری کرے گا؟ کیا ان کی جگہ تھوڑی لچک پسند یا تبدیل شدہ سوچ رکھنے والا عالم آئے گا؟

اختتامی کلمات

شیخ عبداللّٰہ بن عبدالله آل الشیخ کی زندگی اور خدمات ثابت کرتی ہیں کہ وہ نہ صرف ایک دینی عالم تھے بلکہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے مذہب اور ریاست کے بیچ ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کی۔ ان کا عہد ایک ایسے دور میں آیا جس میں سعودی عرب نے داخلی اصلاحات اور سماجی تبدیلیاں شروع کیں، اور انہوں نے دینی شرعی حدود اور ریاستی حکمتِ عملی کے بیچ رہ کر اپنا کردار نبھایا۔

ان کے انتقال سے ایک عہد ختم ہوا، مگر ان کی علمی تحریریں، فتاویٰ، اور دینی رہنمائی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں