آج کے دور میں چائے کا استعمال بے تحاشا بڑھ چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ چائے کا حد سے زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جب چائے میں ناقص دودھ، ملاوٹ شدہ پتی یا زیادہ چینی استعمال کی جائے تو اس کے مضر اثرات اور بھی شدید ہو جاتے ہیں۔
چائے کے بڑھتے ہوئے استعمال کے نقصانات اور جڑی بوٹیوں کے قہوہ جات کے فوائد
چائے میں پائی جانے والی کیفین بعض اوقات نیند میں خلل، ذہنی دباؤ، قبض، سینے کی جلن، دل کی دھڑکن میں اضافہ اور یہاں تک کہ جوڑوں کے درد کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اسے اعتدال میں رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ صحت پر منفی اثرات نہ ہوں۔
دوسری طرف، مختلف قسم کے جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ قہوہ جات نہ صرف ذائقہ دار ہوتے ہیں بلکہ ان میں کئی صحت کے لیے مثبت غذائی اور طبی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔
مختلف قہوہ جات کے صحت بخش فوائد
لونگ اور دارچینی قہوہ:
یہ قہوہ انٹی سیپٹک خصوصیات کا حامل ہے، بلغم کو ختم کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، جگر کو مضبوط بناتا ہے، اضافی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے اور پتھری کے مسائل میں بھی مفید ہے۔
ادرک قہوہ:
ہاضمے کو درست کرتا ہے، بھوک میں اضافہ کرتا ہے، معدے کی گیس نکالنے میں مددگار ہے اور جلد کی رنگت نکھارتا ہے۔
تیز پات قہوہ:
دل، دماغ اور معدے کو طاقت دیتا ہے اور سردرد میں آرام پہنچاتا ہے۔
اجوائن قہوہ:
معدے کی ریاح کو ختم کرتا ہے، بخار میں فائدہ مند ہے اور گرمی کے امراض میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔
گل بنفشہ قہوہ:
کھانسی، نزلہ، گلے کی خراش اور سانس کی بندش کے علاج میں معاون ہے۔
گورکھ پان قہوہ:
خون صاف کرتا ہے، خارش ختم کرتا ہے، اور کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔
ادرک شہد قہوہ:
سردی، کھانسی، بند ناک اور موسمی اثرات سے بچاؤ میں موثر ہے۔
انجبار قہوہ:
دست روکنے اور آنتوں کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ٹانگوں کے درد میں بھی مفید ہے۔
ڈاڑھی بوڑھ قہوہ:
فالج، لقوہ اور مردانہ و زنانہ کمزوریوں کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔
گل سرخ قہوہ:
بلغم کو ختم کرتا ہے، قبض دور کرتا ہے اور جسم کو ہلکا پھلکا رکھتا ہے۔
کالی پتی قہوہ:
کمزوری دور کرتا ہے، پسینہ لاتا ہے، خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے اور سردی میں طاقت بخشتا ہے۔
لیمن گراس قہوہ:
بلغم، نزلہ، اسہال اور کم بلڈ پریشر میں فائدہ مند ہے۔
زیرہ سفید اور الائچی قہوہ:
معدے کی تیزابیت، بواسیر، بھوک میں اضافہ اور ہاضمے کے لیے بہترین ہے۔
سونف قہوہ:
ریاح ختم کرتا ہے، کھانسی اور معدے کی جلن میں کارگر ہے۔
بادیان خطائی، دارچینی اور الائچی کا مرکب:
قوتِ ہاضمہ کو بڑھاتا ہے، بھوک میں اضافہ کرتا ہے اور چائے کی عادت چھوڑنے میں مددگار ہے۔
بنفشہ اور ملیٹھی کا مرکب قہوہ:
سینے کی جلن، کھانسی، قبض اور گلے کی خراش کا مؤثر علاج ہے۔
بہی دانہ اور بنفشہ کا مرکب:
نزلہ، دل و گردے کے درد، پیشاب کی جلن اور قبض میں فائدہ دیتا ہے۔
بنفشی قہوہ:
دائمی کھانسی، ریشہ اور نزلہ میں شفاء بخشتا ہے، ہر موسم کے لیے مؤثر ہے۔
________________________________________





