How 153 Palestinians Arrived in South Africa

پراسرار چارٹر فلائٹ پر 153 فلسطینی غزہ سے جوہانسبرگ پہنچے — جنوبی افریقہ میں تشویش اور تفتیش

پراسرار چارٹر فلائٹ پر 153 فلسطینی غزہ سے جوہانسبرگ پہنچے — جنوبی افریقہ میں تشویش اور تفتیش
پس منظر

جنوبی افریقہ کی انٹیلی جنس سروسز اور سرکاری حکام ایک عجیب و غریب چارٹر طیارے کی آمد کی تحقیقات کر رہے ہیں، جو غزہ پٹی سے 153 فلسطینیوں کو لے کر جوہانسبرگ کے  ٹیمبو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اُتری۔

مسافروں میں خاندان، بچے، اور ایک حاملہ عورت بھی شامل تھی۔

طیارہ سینئر ذرائع کے مطابق کینیا کے شہر نیروبی میں ایک اسٹاپ کے بعد جنوبی افریقہ آیا۔

لینا چیکنگ کے دوران معلوم ہوا کہ زیادہ تر مسافروں کے پاس “اخراجی اسٹیمپ” (exit stamp) نہیں تھا، یعنی ان کی دستاویزات میں اسرائیل سے نکلنے کی معمول کی مهر موجود نہیں تھی۔

ابتدائی طور پر انہیں طیارے پر 12 گھنٹے تک رکھا گیا، جب تک امیگریشن انٹرویو نہ ہو سکے۔

بعد میں، غیر سرکاری تنظیم Gift of the Givers نے ان فلسطینیوں کے قیام کی ضمانت دی، اور 130 افراد کو جنوبی افریقہ میں داخلے کی اجازت مل گئی، جبکہ 23 دیگر نے آگے دیگر ملکوں کی طرف روانہ ہونے کا انتخاب کیا۔

تنقید اور تشویش

دستاویزی بے ضابطگیاں:

جنوبی افریقہ کی بارڈر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ مسافروں نے اپنا قیام کہاں کریں گے اور کتنا وقت رہیں گے، اس کی واضح معلومات فراہم نہیں کی۔

وزارت داخلہ کے مطابق، یہ افراد پناہ گزینی (asylum) کی درخواست دینے والے نظر نہیں آئے۔

ایکسپلائٹیشن کا الزام:

فلسطینی سفارت خانے نے الزام لگایا ہے کہ اس سفر کا انتظام “ایک نان رجسٹرڈ اور گمراہ کن تنظیم” نے کیا، جس نے غزہ کی بحرانی صورتحال کو بنیاد بنا کر خاندانوں کو مالی معاوضہ کے بدلے اس فلائٹ میں بٹھایا۔

نامعلوم اسرائیلی سرکاری ذرائع نے اس تنظیم کو Al-Majd قرار دیا ہے، جو غزہ سے بسوں کے ذریعے فلسطینیوں کو لے کر کرم شالوم کراسنگ (Kerem Shalom) تک لے جاتی تھی، اور پھر طیارے کے ذریعے انہیں منتقل کرتی ہے۔

انسانی حقوق اور حالات:

مقامی این جی او Gift of the Givers کے بانی امتیاز سلیمان نے بتایا ہے کہ بعض مسافروں کو طیارے میں کھانا یا مناسب ہوا (ونٹیلیشن) میسر نہیں تھی، اور طویل سفر اور تاخیر نے ان کی حالت مزید نازک بنا دی۔

ایک سماجی کارکن نائجل برینکن کا کہنا ہے کہ بعض مسافروں نے بتایا کہ انھیں اسرائیلی حکام کی جانب سے اپنا سامان چھوڑنے کا کہا گیا اور ایک “غیر نشان زد طیارے” پر سوار کیا گیا۔

سیاسی اور نظریاتی مضمرات:

جنوبی افریقہ میں اس واقعے پر بحث اس لحاظ سے بھی ہے کہ آیا یہ محض ایک انسانی ہمدردی کی کارروائی تھی، یا پھر فلسطینیوں کی نقل مکانی کو منظم کرنے کی ایک گہری نیٹ ورکنگ مہم ہے۔

صدر سرل رامافوسا نے کہا ہے کہ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتے ہیں — “ہمیں دیکھنا ہے یہ لوگ کہاں سے آئے، کون لے کر آیا، اور ان کی اصل منزل کیا ہے”۔

بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کی نیت “غزہ کی آبادی کو دبانے یا تقسیم کرنے” کی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب دستاویزات میں شفافیت نہ ہو۔

سرکاری ردعمل اور تفتیش

جنوبی افریقہ کی انٹیلی جنس سروسز نے معاملے کی داخلی تفتیش کا آغاز کیا ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ سب مسافر کے پاس پاسپورٹ تھا، اور “دستاویزات کی کمیاں” کے باوجود انہیں وقتی طور پر داخلے کی اجازت دی گئی کیونکہ ایک این جی او نے ان کے قیام کی ضمانت دی تھی۔

انٹرنیشنل اور مقامی انسانی حقوق کے گروپس اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس طرح کے “پراسرار” سفر انسانی حقوق کے شدید خدشات کو جنم دیتے ہیں، خاص طور پر جب لوگ اپنی مرضی اور مکمل معلومات کے بغیر سفر پر مجبور ہوں۔

ممکنہ اثرات اور تشویشیں

پناہ گزینی کا نیا رخ: یہ واقعہ جنوبی افریقہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔

تبدیل ہوتی سیاست: جنوبی افریقہ کی حکومت نے طویل عرصے سے فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے۔ ایسے معاملات ان کی پالیسی اور بین الاقوامی موقف پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

انسانی بحران کی شدت: یہ واقعہ غزہ کی صورت حال کی سنگینی اور وہاں رہنے والوں کی مجبوری کو بھی اجاگر کرتا ہے — ایسے لوگ بالآخر زندگی کی بچت اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔

عالمی تفتیش اور شفافیت: اگر اس طرح کی فلائٹس جاری رہیں، تو بین الاقوامی اور مقامی نگرانی، شفافیت، اور قانونی اخلاقیات پر زور دینا ناگزیر ہوگا۔

نتیجہ

یہ چارٹر فلائٹ ایک “پراسرار اور تشویشناک واقعہ” ہے جو قانونی، انسانی حقوق، اور سیاسی زاویوں سے پیچیدہ ہے۔ جنوبی افریقہ کی حکومت کی تفتیش اور بین الاقوامی برادری کی توجہ مستقبل قریب میں اس معاملے کی سمت کو واضح کرنے میں بہت اہم ہوگی۔ اس واقعے نے غزہ کے انسانی بحران کی گہرائی اور اس کی بین الاقوامی جہت کو دوبارہ سامنے لا دیا ہے، اور یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ ایسے سفر کن قواعد کے تحت ہوں اور کس طرح مستحق لوگوں کو شفاف اور محفوظ راستے فراہم کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں