جیفری ایپسٹین

جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کا معاملہ جدید دور کے سب سے بڑے اور شرمناک اسکینڈلز میں سے ایک ہے۔

جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کا معاملہ جدید دور کے سب سے بڑے اور شرمناک اسکینڈلز میں سے ایک ہے۔ یہ کہانی صرف ایک مجرم کی نہیں، بلکہ طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کی ہے جس نے انصاف کے نظام کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

اس معاملے کی تفصیلات، پس منظر اور اس میں شامل لوگوں کا احوال درج ذیل ہے:

1. پس منظر (Background)

جیفری ایپسٹین (1953-2019) ایک انتہائی امیر امریکی فنانسر تھا۔ اس نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا، پھر بینکنگ میں آیا اور بعد میں اپنی ایک مالیاتی فرم بنا لی۔ اس کے پاس اربوں ڈالر کی دولت تھی۔

اس کی دولت کا ایک بڑا حصہ معمہ بنا رہا کہ وہ اتنا پیسہ کہاں سے کماتا ہے، لیکن اس نے اپنی دولت کا استعمال کر کے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں سے تعلقات بنائے۔ اس کے دوستوں میں صدور، وزرائے اعظم، شاہی خاندان کے افراد اور ہالی وڈ کے ستارے شامل تھے۔

2. معاملہ کی حقیقت ( The Reality of the Case)

ایپسٹین پر الزام تھا (اور بعد میں ثابت بھی ہوا) کہ وہ کم عمر لڑکیوں (Minors) کا ایک وسیع نیٹ ورک چلاتا تھا جسے “سیکس ٹریفکنگ رنگ” کہا جاتا ہے۔

طریقہ واردات:

وہ اور اس کی ساتھی **گیسلین میکسویل (Ghislaine Maxwell)** غریب یا مڈل کلاس گھرانوں کی کم عمر لڑکیوں کو “مساج” کرنے کے بہانے بھرتی کرتے تھے۔ بعد میں انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا۔

اہرام کا نظام (Pyramid Scheme):

وہ ان لڑکیوں کو پیسے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر وہ اپنی دوسری سہیلیوں کو بھی لائیں گی تو انہیں مزید پیسے ملیں گے۔ اس طرح سینکڑوں لڑکیاں اس جال میں پھنس گئیں۔

2008 کا پہلا کیس:

ایپسٹین پر سب سے پہلے فلوریڈا میں مقدمہ چلا۔ لیکن اس وقت اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسے ایک بہت ہی “نرم ڈیل” (Plea Deal) ملی۔ اسے عمر قید کی بجائے صرف 13 مہینے کی جیل ہوئی، جس میں بھی اسے دن کے وقت اپنے دفتر جانے کی اجازت تھی۔ اس ڈیل نے امریکی انصاف کے نظام پر بہت سے سوالات اٹھائے۔

2019 کی گرفتاری:

“می ٹو” (Me Too) تحریک اور صحافتی تحقیقات کے بعد اس کا کیس دوبارہ کھولا گیا۔ اسے نیویارک میں گرفتار کیا گیا اور اس پر کم عمر لڑکیوں کی ٹریفکنگ کے سنگین الزامات لگائے گئے۔

3. موت اور سازشی نظریات

اگست 2019 میں، مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی جیفری ایپسٹین مین ہیٹن کی جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری طور پر اسے “خودکشی” قرار دیا گیا، لیکن عوام کی بڑی تعداد اسے قتل مانتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

* جس سیل میں وہ تھا وہاں کیمرے خراب تھے۔
* جو گارڈز ڈیوٹی پر تھے وہ سو گئے تھے۔
* لوگوں کا ماننا ہے کہ اسے اس لیے مار دیا گیا تاکہ وہ عدالت میں اپنے طاقتور دوستوں کے نام نہ لے سکے۔

4. شامل لوگ اور ہائی پروفائل نام

ایپسٹین کے پاس ایک پرائیویٹ جیٹ تھا جسے بدنامی کے طور پر “لولیٹا ایکسپریس” (Lolita Express) کہا جاتا تھا، اور ایک ذاتی جزیرہ (Island) تھا جہاں یہ تمام غیر قانونی کام ہوتے تھے۔
جب عدالتی دستاویزات سامنے آئیں تو کئی بڑے ناموں کا ذکر اس کے ساتھ ملا۔ (یاد رہے کہ لسٹ میں نام ہونے کا مطلب ہمیشہ جرم میں شریک ہونا نہیں ہوتا، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے ایپسٹین سے قریبی تعلقات تھے)۔

اہم نام جو زیرِ بحث آئے:

گیسلین میکسویل (Ghislaine Maxwell):

یہ ایپسٹین کی گرل فرینڈ اور سب سے بڑی سہولت کار تھی۔ اسے 2021 میں جرم ثابت ہونے پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

شہزادہ اینڈریو (Prince Andrew):

برطانیہ کے شاہی خاندان کے رکن۔ ان پر ایک متاثرہ لڑکی (ورجینیا جیفری) نے الزام لگایا کہ اسے ایپسٹین کے ذریعے شہزادے کے پاس بھیجا گیا تھا۔ شہزادے نے عدالت سے باہر کروڑوں ڈالر دے کر تصفیہ (Settlement) کیا، لیکن ان سے شاہی اعزازات چھین لیے گئے۔

بل کلنٹن (Bill Clinton):

سابق امریکی صدر۔ فلائٹ لاگز کے مطابق انہوں نے ایپسٹین کے جہاز میں کئی بار سفر کیا، حالانکہ انہوں نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump):

سابق امریکی صدر۔ پرانی ویڈیوز اور انٹرویوز میں وہ ایپسٹین کے ساتھ پارٹیوں میں نظر آئے اور اس کی تعریف بھی کی، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کے تعلقات ختم ہو گئے تھے۔

بل گیٹس (Bill Gates):

مائیکروسافٹ کے بانی۔ ان کی ایپسٹین سے ملاقاتیں اس وقت ہوئیں جب وہ (ایپسٹین) سزا یافتہ مجرم بن چکا تھا، جس پر بل گیٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

خلاصہ:

جیفری ایپسٹین کا کیس یہ ظاہر کرتا ہے کہ کیسے بے پناہ دولت اور طاقت رکھنے والے لوگ برسوں تک قانون کی گرفت سے بچے رہے اور کیسے انہوں نے کمزور طبقے کی بچیوں کا استحصال کیا۔ اگرچہ ایپسٹین مر چکا ہے اور میکسویل جیل میں ہے، لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس نیٹ ورک میں شامل اصل “بڑے گاہک” ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لائے گئے۔