ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کے لیے تجویز (29 ستمبر 2025 کے مشترکہ پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اعلان کردہ) ایک جامع منصوبہ ہے جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ ٹرمپ کے فروری 2025 میں دیے گئے امریکی انتظامی کنٹرول اور دوبارہ ترقی کے خیالات پر مبنی ہے مگر اب ایک سفارتی فریم ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے جو شدت پسندی کے خاتمے، تعمیر نو اور عالمی نگرانی پر زور دیتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دونوں اطراف سے فوری طور پر جنگ بندی کو قبول کرنے کی ضرورت ہے اور ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ حماس کے پاس جواب دینے کے لئے “تین چار دن” ہیں ورنہ امریکہ اسرائیل کو مکمل تعاون فراہم کرے گا تاکہ “کام مکمل کیا جا سکے”۔
نیتن یاہو نے اس منصوبے کی تائید کی ہے، لیکن حماس نے ابھی تک رسمی جواب نہیں تاہم حماس نے کچھ شکوک کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی:
جنگ بندی کے معاہدہ پر تمام زندہ اور مردہ یرغمالیوں کو 72 گھنٹوں کے اندر حماس کی جانب سے رہا کیا جائے گا۔ بدلے میں اسرائیل 250 فلسطینی قیدی جو عمر قید بھگت رہے ہیں، اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار 1700 غزہ کے رہائشیوں کو رہا کرے گا، نیز ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں دی جائیں گی۔
شدت پسندی کا خاتمہ اور غیر مسلح کاری:
غزہ کو ایک “شدت پسندی سے پاک اور دہشت گردی سے مبرا” علاقہ بنایا جائے گا، حماس ہتھیار ڈال کر حکومت چھوڑ دے گا، اور امن کی شرط پر رکنوں کو معافی دی جائے گی یا انہیں دیگر ممالک کو محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس (ISF) امریکی تعاون سے فلسطینی پولیس کی تربیت کے لیے جائے گی، جس میں اردن اور مصر کی مشاورت شامل ہوگی۔
انسانی امداد:
اقوام متحدہ اور ریڈ کریسنٹ کی رہنمائی میں پورے غزہ میں انسانی امداد فوجی یا حماس کی مداخلت کے بغیر فوری بحال ہو جائے گی، جس میں پانی، بجلی، سیوریج، ہسپتال، بیکری اور ملبہ ہٹانے کا سامان شامل ہوگا۔ رفح کراسنگ دو طرفہ کھولی جائے گی۔
حکومت و تعمیر نو:
“بورڈ آف پیس” کے نام سے ٹرمپ کی صدارت میں ایک عالمی عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی حکومت اور فنڈنگ کی نگرانی کرے گی۔ غزہ کو “نیو غزہ” کے طور پر دوبارہ ترقی دی جائے گی جو ٹرمپ کی اقتصادی ترقیاتی منصوبے کی بنیاد پر ہوگی، مقامی لوگوں کو روزگار مہیا کیا جائے گا اور سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔ کسی کو بھی جبراً بے گھر نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی انخلا:
اسرائیلی فوج علاقے کا کنٹرول فورا نہیں بلکہ بتدریج بین الاقوامی فورس کے حوالے کرے گی اور سیکیورٹی پر موجودگی برقرار رکھی جائے گی جب تک خطرات ختم نہ ہوں۔
علاقائی کردار:
قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن جیسے عرب ممالک مالی اور حفاظتی تعاون فراہم کریں گے۔ غزہ یا مغربی کنارے کی الحاق کی اجازت نہیں ہوگی۔ منصوبہ فلسطینی ریاست کی خواہش کا اعتراف کرتا ہے مگر فوری تشکیل سے زیادہ استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔
منصوبہ مختلف ردعمل کا سامنا کر رہا ہے:
یورپ اور کچھ عرب رہنماؤں نے اسے خیر مقدم کیا ہے جب کہ فلسطینی اسلامی جہاد نے اسے خطے کو منتشر کرنے والی سازش قرار دیا ہے۔
ٹونی بلئر کے مسودے اور جارڈ کشنر کی مشاورت سے تیار ہونے والے اس منصوبے میں علاقائی ذمہ داری پر زور ہے۔
ٹرمپ کے غزہ کے لیے 21 نکاتی ایجنڈا کا خلاصہ:
غزہ کو شدت پسندی اور دہشت گردی سے پاک زون بنایا جائے گا۔
غزہ کی دوبارہ ترقی غزہ کے لوگوں کے فائدے کے لیے ہوگی۔
دونوں فریقین کی منظوری کے ساتھ فوراً جنگ بندی ہوگی۔
تمام یرغمالی 72 گھنٹوں میں رہا کیے جائیں گے۔ اسرائیل 250 عمر قید فلسطینی اور 1700 دیگر قیدی رہا کرے گا۔
ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشیں دی جائیں گی۔
انسانی امداد فوری داخل ہوگی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو ہوگی۔
امداد کی فراہمی بغیر کسی مداخلت کے ہوگی اور رفح کراسنگ کھولی جائے گی۔
جنگ بندی کے بعد حملے بند ہوں گے۔
ٹرمپ کی اقتصادی ترقیاتی منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیر ہوگی۔
جبری نقل مکانی نہیں ہوگی، لوگ رضا مندی سے جائیں گے۔
حماس ہتھیار ڈالے گی اور امن کے لیے پابند ہوگی۔
امریکہ اور عرب ملکوں کی حمایت سے بین الاقوامی فورس غزہ میں جائے گی۔
فلسطینی پولیس کی تربیت ہوگی۔
اسرائیلی انخلا بتدریج ہوگا۔
عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی کمیٹی قائم ہوگی۔
عالمی بین الاقوامی ادارہ “بورڈ آف پیس” نگرانی کرے گا۔
عالمی معیار کی حکومت قائم ہوگی۔ اصلاحات کے بعد فلسطینی اتھارٹی غزہ پر کنٹرول واپس لے گی۔
علاقائی مالی معاونت ہوگی۔ عرب ممالک کی مزید مدد اور خطے کی امن عمل جاری رہے گا۔
یہ منصوبہ سلامتی اور اقتصادی ترقی کو ترجیح دیتا ہے لیکن کچھ حلقوں کی طرف سے اسے فلسطینی خودمختاری کی کمی کا تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
منصوبے کی کامیابی حماس کے جواب اور علاقائی تعاون پر منحصر ہے۔
ٹرمپ کی غزہ پروپوزل پر تنقید اور مخالفت
ڈونلڈ ٹرمپ کی 20-نقاط پر مبنی غزہ امن پروپوزل (جسے 29 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس میں پیش کیا گیا) نے فوری طور پر عالمی سطح پر سرخیاں بنائیں، لیکن اسے فلسطینی گروپوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور کچھ عرب اور مغربی تجزیہ کاروں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پروپوزل فوری جنگ بندی، یرغمالوں کی رہائی، حماس کی عدم مسلح، اور غزہ کی بحالی پر مرکوز ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی خودمختاری کو نظر انداز کرتا ہے، اسرائیلی برتری کو مستحکم کرتا ہے، اور غزہ کو بیرونی کنٹرول میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
ذیل میں اہم ناقدین، ان کے دلائل، اور تحفظات کو درج کیا گیا ہے۔ یہ تنقید بنیادی طور پر فلسطینی حقوق، نفاذ کی کمی، اور علاقائی استحکام پر مرکوز ہے۔
1. حماس (Hamas)
• حالت: حماس نے پروپوزل کو “مطالعہ” کرنے کا کہا ہے، لیکن ابتدائی ردعمل میں اسے “اسرائیل کی طرف سے مکمل طور پر جانبدار” قرار دیا گیا۔
• دلائل اور تحفظات:
• ناممکن شرائط: حماس کی عدم مسلح اور حکومت چھوڑنے کی شرط “خاتمہ” کی کوشش ہے، جو گروپ کی بقا اور فلسطینی مزاحمت کو ختم کر دے گی۔
• فلسطینی حقوق کی خلاف ورزی: یرغمالوں کی 72 گھنٹوں میں رہائی اور اسرائیلی قیدیوں کی تبادلے کی شرائط فلسطینیوں کو “جائز حقوق” نہیں دیتیں، بلکہ اسرائیلی مطالبات کو قبول کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
• نفاذ کی کمی: کوئی ٹائم لائن یا ضمانت نہیں کہ اسرائیل مکمل انخلا کرے گا، جو جنگ کو طول دے سکتا ہے۔
2. فلسطینی اسلامک جہاد (Palestinian Islamic Jihad – PIJ)
• حالت: PIJ نے پروپوزل کو “علاقے کو دھماکے سے اڑانے کی ترکیب” قرار دیا اور اس کی شدید مخالفت کی۔
• دلائل اور تحفظات:
• جاری جارحیت کی حوصلہ افزائی: یہ پروپوزل اسرائیل کو فلسطینیوں پر مزید حملوں کی اجازت دیتا ہے، کیونکہ حماس کی عدم مسلح کے بعد غزہ بےدفاعی ہو جائے گا۔
• امریکی-اسرائیلی اتفاق: یہ “امریکی-اسرائیلی معاہدہ” ہے جو اسرائیلی پوزیشن کو مکمل طور پر اپناتا ہے، فلسطینی مزاحمت کو تسلیم نہیں کرتا۔
• علاقائی استحکام کا خطرہ: غزہ میں بیرونی فورسز کی تعیناتی مزید تنازعات کو جنم دے گی، خاص طور پر ایران کی حمایت یافتہ گروپوں کے لیے۔
3. دیگر فلسطینی گروپس (جیسے PFLP-GC) اور غزہ کے رہائشی
• حالت: پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (PFLP) نے اسے “مزاحمت پر ہتھیار ڈالنے کی فارمولا” کہا، جبکہ غزہ کے رہائشیوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔
• دلائل اور تحفظات:
• خودمختاری کی خلاف ورزی: غزہ کو “ٹیکنو کریٹک” کمیٹی اور ٹرمپ کی سربراہی میں “بورڈ آف پیس” کے ذریعے چلانا فلسطینیوں کو باہر رکھتا ہے، جو نوآبادیاتی کنٹرول ہے۔
• ناکارہ نفاذ: کوئی ٹائم لائنز، نگرانی، یا ضمانتیں نہیں؛ اسرائیل کو “سیکیورٹی پریمٹر” برقرار رکھنے کی اجازت جو انخلا کو ناممکن بناتی ہے۔
• غزہ کے لوگوں کی تشویش: رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ “دھوکہ” ہے، کیونکہ حماس کی مخالفت کی صورت میں اسرائیل کو “جنگ ختم کرنے” کی اجازت مل جائے گی، جبکہ فلسطینی حقوق نظر انداز ہوں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں
• حالت: اقوام متحدہ، چٹہم ہاؤس، اور بروکنگز جیسی تنظیموں نے اسے “نسل کشی کی حوصلہ افزائی” اور “بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی” قرار دیا۔
• دلائل اور تحفظات:
• قانونی خلاف ورزیاں: آبادی کی جبری منتقلی (فورسڈ ڈسپلیسمنٹ) جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو غزہ کو “ریویئرا آف دی مڈل ایسٹ” بنانے کی کوشش کو نسل کشی کی طرف لے جائے گی۔
• فلسطینی ریاست کی راہ میں رکاوٹ: ریاست کی کوئی ٹھوس راہ نہیں، صرف “آرزو” کا ذکر؛ یہ دو ریاستی حل کو ختم کر دیتا ہے۔
• امریکی فوجیوں کا خطرہ: غزہ پر امریکی “کنٹرول” امریکیوں کو ICC میں مقدمات کا سامنا کروا سکتا ہے۔
5. عرب اور علاقائی ممالک (جیسے مصر، شام، اردن)
• حالت: مصر نے متبادل تجویز پیش کی، جبکہ شام نے “سنگین جرم” کہا؛ کچھ عرب ممالک (جیسے قطر، سعودیہ) نے خوش آمدید کہا لیکن فلسطینی نمائندگی پر تشویش ظاہر کی۔
• دلائل اور تحفظات:
• نسل کشی کا خطرہ: غزہ کی آبادی کو مصر/اردن منتقل کرنے کی تجویز امن معاہدوں کو توڑ سکتی ہے۔
• فلسطینی نمائندگی کی کمی: عرب فنڈنگ کے باوجود، فلسطینیوں کو فیصلہ سازی سے باہر رکھنا استحکام کو نقصان پہنچائے گا۔
6. امریکی اور اسرائیلی اندرونی مخالفین
• حالت: امریکی کانگریس کے دو طرفہ ارکان اور نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادیوں نے تنقید کی۔
• دلائل اور تحفظات:
• ناکام سفارت کاری: ٹرمپ کی پہلی مدت کی طرح، یہ “مبالغہ آمیز اعلان” ہے جو نافذ نہیں ہو گا۔
• اسرائیلی مطالبات کی کمی: دائیں بازو کے لیے یہ “مکمل ناکامی” ہے، کیونکہ یہ مستقل اسرائیلی قبضہ یا فلسطینیوں کی جبری ہجرت کو شامل نہیں کرتا۔
پاکستان تحریک انصاف کا غزہ امن معاہدے پر بیان:
پاکستان تحریک انصاف، جو کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت اور اس کے عوام کی حقیقی آواز ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حال ہی میں اعلان کردہ غزہ کے بارے میں امن معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے، جو فلسطینی عوام کی آزاد مرضی اور رضامندی کو یقینی بنائے بغیر فلسطین کے مستقبل کا تعین کرنا چاہتا ہے۔
یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا
اور مقبوضہ شامی گولان ہائٹس کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنا
بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہے، اور یہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے عالمی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان نے مستقل طور پر پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن صرف ایک منصفانہ دو ریاستی حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جو خود فلسطینی عوام کی امنگوں کی مکمل عکاسی کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پوزیشن کے مطابق ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ فلسطینیوں پر زبردستی مسلط کیا گیا کوئی بھی امن اقدام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
عمران خان نے فلسطین اور کشمیر کے درمیان بارہا مماثلت بھی بیان کی ہے، کہ دونوں اقوام قبضے اور اپنے حق خود ارادیت سے محرومی کے تحت مصائب کا شکار ہیں۔
پی ٹی آئی قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کا اعادہ کرتی ہے، جنہوں نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق اور ایک آزاد وطن نہیں مل جاتا، پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ وژن پاکستان کی خارجہ پالیسی کی رہنمائی جاری رکھتا ہے اور اس کے عوام کی آواز کی عکاسی کرتا ہے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران اسرائیل کا یہ کہنا کہ اگر فلسطینی اسے قبول نہیں کرتے تو اس منصوبے کو طاقت کے زور پر نافذ کیا جا سکتا ہے، تشویشناک ہے اور علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ایسے طریقے امن نہیں قائم کر سکتے؛ وہ صرف مزید تقسیم اور بے چینی پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتی ہے اور فلسطینی عوام کی امنگوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں، 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور پاکستان کے تاریخی وعدوں کے مطابق، القدس الشریف (یروشلم) کو اس کا دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مطالبے کے ساتھ کھڑی ہے۔
فلسطینی عوام کی جدوجہد، بالکل کشمیریوں کی طرح، نہ صرف ایک سیاسی مسئلہ ہے بلکہ عزت، انصاف اور آزادی کی جنگ ہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی قوم آزاد رہنے کے لیے پرعزم لوگوں کی مرضی کو دبا نہیں سکتی۔





